کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا

کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا
پرندوں کو کسی بھی شکل میں آنا پڑے گا
خود اپنے سامنے آتے ہوئے حیران ہیں ہم
ہمیں اب اس گلی سے گھوم کر جانا پڑے گا
اسے یہ گھر سمجھنے لگ گئے ہیں رفتہ رفتہ
پرندوں سے قفس آمادہ کروانا پڑے گا
اداسی وزن رکھتی ہے جگہ بھی گھیرتی ہے
ہمیں کمرے کو خالی چھوڑ کر جانا پڑے گا
میں پچھلے بنچ پر سہما ڈرا بیٹھا ہوا ہوں
سمجھ میں کیا نہیں آیا یہ سمجھانا پڑے گا
یہاں دامن پہ نقشہ بن گیا ہے آنسوؤں سے
کسی کی جستجو میں دور تک جانا پڑے گا
تعارف کے لئے چہرہ کہاں سے لائیں گے ہم
اگر چہرہ بھی ہو تو نام بتلانا پڑے گا
کہیں صندوق ہی تابوت بن جائے نہ اک دن
حفاظت سے رکھی چیزوں کو پھیلانا پڑے گا
خدا حافظ بلند آواز میں کہنا پڑے گا
پھر اس آواز سے آگے نکل جانا پڑے گا
جہاں پیشین گوئی ختم ہو جائے گی آخر
ابھی اس راہ میں اک اور ویرانہ پڑے گا
یہ جنگل باغ ہے عادلؔ یہ دلدل آب جو ہے
کہیں کچھ ہے جسے ترتیب میں لانا پڑے گا
ذوالفقار عادل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے