فروری 5, 2023
danish naqvi
دانش نقوی کی ایک اردو غزل

کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی
ضرور تجھ کو کسی کی کمی ہوا کرے گی
رہے گی ایسے ہی رونق تیرے محلے کی
گزرنے والے نہ ہوں گے گلی ہوا کرے گی
جو ہم نہ ہونگے تو پھر کون تم سے مانگے گا
تمہیں ہماری ضرورت سخی! ہوا کرے گی
بچھڑ کے مجھ سے میری جان خوش رہا کرنا
تو خوش رہا تو مجھے بھی خوشی ہوا کرے گی
ہمارا خاص تعلق تو خیر تھا ہی نہیں
اور اب تو بات بھی بس سر سری ہوا کرے گی
تم اور میں تو یقینا وہاں جنم لیں گے
کہیں خلا میں اگر زندگی ہوا کرے گی
دانش نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے