کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیں

کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیں
مرے بہے ہوئے آنسو جبیں پہ لائے ہیں
نہ سر گزشت سفر پوچھ مختصر یہ ہے
کہ اپنے نقش قدم ہم نے خود مٹائے ہیں
نظر نہ توڑ سکی آنسوؤں کی چلمن کو
وہ روز اگرچہ مرے آئینے میں آئے ہیں
اس ایک شمع سے اترے ہیں بام و در کے لباس
اس ایک لو نے بڑے ” پھول بن ” جلائے ہیں
یہ دوپہر ، یہ زمیں پر لپا ہوا سورج
کہیں درخت نہ دیوارو در کے سائے ہیں
کلی کلی میں ہے دھرتی کے دودھ کی خوشبو
تمام پھول اسی ایک ماں کے جائے ہیں
نظر خلاؤں پہ اور انتظار بے وعدہ
بہ ایں عمل بھی وہ آنکھوں میں جھلملائے ہیں
احسان دانش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے