کبھی حرم پہ کبھی بتکدے پہ بار ہوا

کبھی حرم پہ کبھی بتکدے پہ بار ہوا
کہیں کہاں ترا دیوانہ شرمسار ہوا
گزر گیا ہے محبت کا مرحلہ شاید
ترے خیال سے بھی دل نہ بے قرار ہوا
تمہاری بزم میں جب آرزو کی بات چھڑی
ہمارا ذکر بھی یاروں کو ناگوار ہوا
چمن کی خاک سے پیدا ہوا ہے کانٹا بھی
یہ اور بات کہ حالات کا شکار ہوا
نسیم صبح کی شوخی میں تو کلام نہیں
مگر وہ پھول جو پامالِ رہگزار ہوا
روش روش پہ سلگتے ہوئے شگوفوں سے
کبھی کبھی ہمیں اندازۂ بہار ہوا
فسانہ خواں کوئی دنیا میں مل گیا جس کو
اسی کی ذکر فسانوں میں بار بار ہوا
کس انجمن میں جلایا ہے تو نے اے باقیؔ
ترا چراغ، چراغِ سرِ مزار ہوا
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے