کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ
مجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ
نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق ترا
تمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ
دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پر
تجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ
تو چاہتا ہے اگر کار۔آفتاب کروں
مرا عروج مری ساعت زوال میں رکھ
ترے بغیر گزاری ہے زندگی میں نے
تو اس ستم کی تلافی بھی ماہ و سال میں رکھ
تو دل ہے اور دھڑکنا تری عبادت ہے
سو خود کو جسم سے باہر بھی تو دھمال میں رکھ
شکم سے ہو کے گزرتے ہیں قول و فعل مرے
مجھ ایسے شخص کو نان و نمک کے جال میں رکھ
مرے بدن کو بھلے اس سے آگ لگ جائے
چراغ حرف مگر میرے بال بال میں رکھ
میں اس عذاب کے نشے میں مبتلا ہوں کبیرؔ
پرائی آگ اٹھا کر مری سفال میں رکھ
ڈاکٹر کبیر اطہر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے