کبھی بدن کبھی بستر بدل کے دیکھا ہے

کبھی بدن کبھی بستر بدل کے دیکھا ہے
سکوں کہیں بھی نہیں گھر بدل کے دیکھا ہے

کسی طرح بھی یہ وحشت نظر سے جاتی نہیں
کئی طرح سے وہ منظر بدل کے دیکھا ہے

وہ کون ہے میں جسے خوش نصیب لگتا ہوں
یہ کس نے میرا مقدر بدل کے دیکھا ہے

یونہی تو موجئہ پایاب سے نہیں ڈرتے
شناوروں نے سمندر بدل کے دیکھا ہے

تیرے خیال سے ہٹتا نہیں ہے دھیان مرا
ہر ایک سوچ کا محور بدل کے دیکھا ہے

ملک عتیق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے