کب تک تیری بات سنے گا کب تک جی بہلائے گا

کب تک تیری بات سنے گا کب تک جی بہلائے گا
شاخ پہ بیٹھا ایک پکهیرو آخر کو اڑ جائے گا
چهٹی کی درخواست پہ میں نے بس اتنا تحریر کیا
ساری رات کا جاگا عاشق کام پہ کیسے آئے گا
نخوت لہجے میں در آئی چہرا سرخ عنابی ہے
ہم نے اس سے پیار کیا ہے صاف نظر آ جائے گا
مانا کہ ناراض ہے لیکن جب میں ملنے جاؤں گا
دور سے آتا دیکھ کے مجھ کو دهیمے سے مسکائے گا
دل کے آنگن میں خوشیوں کے چاہے جتنے پهول کھلیں
بوٹا مہر محبت والا ہی جیون مہکائے گا
ڈاکٹر اسد نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے