کب کسی کے ہاتھ پر جاتا ہوں میں

کب کسی کے ہاتھ پر جاتا ہوں میں
شاخ پر کھل کر بکھر جاتا ہوں میں

درد کی شدت سے بھر جاتا ہوں میں
سانس لیتا ہوں کہ مر جاتا ہوں میں

رات کی صورت گزر جاتا ہے تو
خواب کی صورت بکھر جاتا ہوں میں

یہ در و دیوار جو خاموش ہیں
ان کی آوازوں سے ڈر جاتا ہوں میں

مسکرا کر دیکھتا ہے وہ مجھے
اور پھر خوابوں سے بھر جاتا ہوں میں

اس کے رستے پر قدم پڑتا نہیں
اپنی حد سے تو گزر جاتا ہوں میں

جس طرف سے آ رہی ہے یہ ہوا
اب دیا لیکر ادھر جاتا ہوں میں

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے