کام ضروری آن پڑا ہے

کام ضروری آن پڑا ہے
رستہ بھی سنسان پڑا ہے

گھر کے اندر ہے تنہائی
باہر اک طوفان پڑا ہے

سجے ہیں رستے کس مقصد سے
کس جانب کو دھیان پڑا ہے

مجھ جیسے شاعر کی قیمت
بے قیمت دیوان پڑا ہے

یوں اپنی تہذیب بھلا کر
مشکل میں انسان پڑا ہے

تیرے بعد یہ تیرا عاصم
مدت سے ویران پڑا ہے

عاصم ممتاز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے