جنوں تبدیلی موسم کا تقریروں کی حد تک ہے

جنوں تبدیلی موسم کا تقریروں کی حد تک ہے

یہاں جو کچھ نظر آتا ہے تصویروں کی حد تک ہے

غبار آثار کرتی ہے مسافر کو سبک گامی

طلسم منزل ہستی تو رہ گیروں کی حد تک ہے

زمانے تو نے غم کو بھی نمائش کر دیا آخر

نشاط گریہ و ماتم بھی زنجیروں کی حد تک ہے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے