جو زندگی تھی آج کل وہ زندگی نہیں رہی

جو زندگی تھی آج کل وہ زندگی نہیں رہی
ہماری چاہ اس کی خوبصورتی نہیں رہی
ہمیں خرد نے آ لیا تو مصلحت نے آپ کو
سو دوستی تو رہ گئی وہ تشنگی نہیں رہی
جو سب میں بانٹتی رہی محبتیں رفاقتیں
سنا ہے مندروں میں اب وہ مورتی نہیں رہی
میں اب کے سال اپنے گاؤں عید پر نہیں گیا
وہ شدتوں سے منتظر کبھی جو تھی، نہیں رہی
جو دوستی ہے آپ سے یہ دوستی عجیب ہے
ہماری آپ سے کبھی برابری نہیں رہی
جب اس کا انتخاب تھے ہم ایک باد شاہ تھے
وہ بچوں والی ہو گئی تو سر پھری نہیں رہی
میں اس کو ایک بات کا یقیں دلا نہیں سکا
کہ دل میں آج تک کوئی بھی آپ سی نہیں رہی
صغیر یعنی ارتقائے وقت کا یہ کھیل ہے
کسی کے ساتھ ہو کے بھی جو ہمرہی نہیں رہی
صغیر احمد صغیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے