جو اُس کے ہونٹوں سے جھوٹا ہوا نہیں

جو اُس کے ہونٹوں سے جھوٹا ہوا نہیں
میری چائے کا پیالا میٹھا ہوا نہیں
جلدی کر دی رب نے اُسے بنانے میں
وہ جو میرا ہو سکتا تھا ہوا نہیں
ترے لیے وہ ساری دنیا چھوڑ آیا
تجھے زرا سا بھی اندازہ ہوا نہیں
تھم کر چلنے لگا اچانک سے یہ دل
اس کی ایک نظر سے کیا کیا ہوا نہیں
جو خوابیدہ آنکھوں کا بیمار ہوا
کسی دعا دارو سے اچھا ہوا نہیں
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے