جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
اٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا

وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہوا
پھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا

قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگے
اگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا

آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہت
نام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ہوگا

لعل لب کا ترے بوسہ تو میں لیتا ہوں مگر
ڈر یہ ہے خون جگر بعد میں پینا ہوگا

اکبر الہ آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے