جو تمہارے حضور ہوتا ہے

جو تمہارے حضور ہوتا ہے
وہ زمانے سے دور ہوتا ہے
اپنی اپنی وفاؤں پر سب کو
تھوڑا تھوڑا غرور ہوتا ہے
بے رُخی کا گلہ کریں نہ کریں
دل کو صدمہ ضرور ہوتا ہے
بخش دیجے تو کوئی بات نہیں
آدمی سے قصور ہوتا ہے
مئے الفت کی بات کیا باقیؔ
اور ہی کچھ سرور ہوتا ہے
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے