جو رنگ ہاے رُخِ دوستاں سمجھتے تھے

جو رنگ ہاے رُخِ دوستاں سمجھتے تھے
وہ ہم نفس بھی مرا دکھ کہاں سمجھتے تھے
محبتوں مِیں کنارے نہیں مِلا کرتے
’’مگر یہ ڈوبنے والے کہاں سمجھتے تھے‘‘
کُھلا کہ چادرِ شب میں بھی وسعتیں ہیں کئی
ذرا سی دھوپ کو ہم آسماں سمجھتے تھے
خزاں کے عہدِ اسیری سے پیش تر طائر
چمن مِیں موسمِ گل کی زباں سمجھتے تھے
انہیں بھی دہر کی فرزانگی نہ راس آئی
جو کارِ عشق کے سُود و زیاں سمجھتے تھے
کسی کا قُرب قیامت سے کم نہیں تھا سعیدؔ
فقط فراق کو ہم امتحاں سمجھتے تھے
مبشّر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے