جو میں سوئے طیبہ چلوں کبھی

جو میں سوئے طیبہ چلوں کبھی تو سفر میں ایسا کمال ہو
نہ ستائیں راہ کے پیچ و خم نہ بدن تھکن سے نڈھال ہو

مری خاک خشت میں ڈھال کر اسے چن دو روضہ ءپاک میں
نہ ہی فاصلوں کا گلہ رہے نہ جدائیوں کا ملال ہو

ترا عشق میرا خزانہ ہے ترا ذکر میری کمائی ہے
میں وہ دن نہ دیکھوں خدا کرے کہ مری طلب زر و مال ہو

سر خواب مجھ سے کہا گیا کہ یہ راز سب پہ عیاں کروں
جو نماز ہو تو حسین سی ہو اذاں تو مثل بلال ہو

سر عرش پل میں پہنچ گیا تری رفعتوں کی نظیر کیا
کوئی لائے تیرے جواب میں جو کسی کے پاس مثال ہو

جو دوام حرف کی بات کی تو ندائے غیب سنائ دی
تجھے وہ عروج عطا ہوا جسے حشر تک نہ زوال ہو

سید انصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے