جو کتابِ زیست کا باب تھا

جو کتابِ زیست کا باب تھا ، کوئی خواب تھا
جسے بھُولنا بھی عذاب تھا ، کوئی خواب تھا

بڑا تلخ لہجہ تھا اُس کا بھی مِرے جیسا ہی
مِرے جیسے خانہ خراب تھا ، کوئی خواب تھا

جسے بات کرنے کا ڈھنگ تھا بھری بزم میں
وہ سوال کا جو جواب تھا ، کوئی خواب تھا

مِرے سامنے سے گُزر گیا تھا جو چُپکے سے
وہ جو بے مثال شباب تھا ، کوئی خواب تھا

جسے دیکھنے سے سرُور مِلتا تھا قلب کو
وہ جو چلتی پھِرتی شراب تھا ، کوئی خواب تھا

جسے دیکھنے کی تھی جُستجُو مجھے ہر گھڑی
وہ جو اوڑھے رکھتا نقاب تھا ، کوئی خواب تھا

جسے پڑھتے رہنا ہی مشغلہ تھا مِرا کبھی
کھُلی پیار کی جو کتاب تھا ، کوئی خواب تھا

مِری زندگی میں مہک تھی جس کے وجود سے
وہ جو دل نشین گُلاب تھا ، کوئی خواب تھا

جسے سچ سمجھ کے تھی میں نے دل میں پناہ دی
مجھے کیا خبر وہ سراب تھا ، کوئی خواب تھا

وہ جو پل میں کیفی بدل گیا تِری کیفیت
مِرے دوست مان وہ خواب تھا ، کوئی خواب تھا

( محمود کیفی )

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے