جو ادھر سے جا رہا ہے وہی مجھ پر مہرباں ہے

جو ادھر سے جا رہا ہے وہی مجھ پر مہرباں ہے
کبھی آگ پاسباں ہے کبھی دھوپ سائباں ہے
یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے
ابھی تجھ سے ملتا جلتا کوئی دوسرا کہاں ہے
وہی شخص جس پہ اپنے دل و جاں نثار کر دوں
وہ اگر خفا نہیں ہے تو ضرور بدگماں ہے
کبھی پا کے تجھ کو کھونا کبھی کھو کے تجھ کو پانا
یہ جنم جنم کا رشتہ ترے میرے درمیاں نہیں ہے
مرے ساتھ چلنے والے تجھے کیا ملا سفر میں
وہی دکھ بھری زمین ہے وہی غم کا آسماں ہے
میں اسی گماں میں برسوں بڑا مطمئن رہا ہوں
ترا جسم بے تغیر مرا پیار جاوداں ہے
بڑی آرزو تھے مجھے سے کوئی خاک روکے کہتی
اتر آمری زمیں پر تو ہی میرا آسماں ہے
کبھی سرخ مومی شمعیں وہاں پھر سے جل سکیں گی
وہ لکھوری اینٹوں کا جو بڑا سا اک مکاں ہے
سبھی برف کے مکانوں پہ کفن بچھے ہیں لیکن
یہ دھواں بتا رہا ہے ابھی آگ بھی یہاں ہے
انہیں راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے
مجھے روک روک پوچھا ترا ہمسفر کہاں ہے
بشیر بدر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے