جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک

(ردیف کاف)
جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک
تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک
وہ جب تشریف لائے گھرسے در تک
بھکاری کا بھرا ہے دَر سے گھر تک
دُہائی ناخدائے بے کساں کی
ٔکہ سیلابِ اَلم پہنچا کمر تک
الٰہی دل کو دے وہ سوزِ اُلفت
پھُنکے سینہ جلن پہنچے جگر تک
نہ ہو جب تک تمہارا نام شامل
دعائیں جا نہیں سکتیں اَثر تک
گزر کی راہ نکلی رہ گزر میں
ابھی پہنچے نہ تھے ہم اُن کے دَر تک
خدا یوں اُن کی اُلفت میں گما دے
نہ پاؤں پھر کبھی اپنی خبر تک
بجائے چشم خود اُٹھتا نہ ہو آڑ
جمالِ یار سے تیری نظر تک
تری نعمت کے بھُوکے اہلِ دولت
تری رحمت کا پیاسا ابر تک
نہ ہو گا دو قدم کا فاصلہ بھی
الٰہ آباد سے احمد نگر تک
تمہارے حسن کے باڑے کے صدقے
نمک خوار ملاحت ہے قمر تک
شبِ معراج تھے جلوے پہ جلوے
شبستانِ دنیٰ سے اُن کے گھر تک
بلائے جان ہے اب ویرانیِ دل
چلے آؤ کبھی اس اُجڑے گھر تک
نہ کھول آنکھیں نگاہِ شوقِ ناقص
بہت پردے ہیں حسنِ جلوہ گر تک
جہنم میں دھکیلیں نجدیوں کو
حسنؔ جھوٹوں کو یوں پہنچائیں گھر تک
حسن رضا بریلوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے