جو دیا تو نے ہمیں وہ صورت زر رکھ لیا

جو دیا تو نے ہمیں وہ صورت زر رکھ لیا
تو نے پتھر دے دیا تو ہم نے پتھر رکھ لیا
سسکیوں نے چار سو دیکھا کوئی ڈھارس نہ تھی
ایک تنہائی تھی اس کی گود میں سر رکھ لیا
گھٹ گیا تہذیب کے گنبد میں ہر خواہش کا دم
جنگلوں کا مور ہم نے گھر کے اندر رکھ لیا
میرے بالوں پہ سجا دی گرم صحراؤں کی دھول
اپنی آنکھوں کے لیے اس نے سمندر رکھ لیا
درز تک سے اب نہ پھوٹے گی تمنا کی پھوار
چشمۂ خواہش پہ ہم نے دل کا پتھر رکھ لیا
وہ جو اڑ کر جا چکا ہے دور میرے ہاتھ سے
اس کی اک بچھڑی نشانی طاق میں پر رکھ لیا
دید کی جھولی کہیں خالی نہ رہ جائے عدیمؔ
ہم نے آنکھوں میں ترے جانے کا منظر رکھ لیا
پھینک دیں گلیاں برون صحن سب اس نے عدیمؔ
گھر کہ جو مانگا تھا میں نے وہ پس در رکھ لیا
عدیم ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے