Jo Dhekh Saktay Na Thay

جو دیکھ سکتے نہ تھے ‘ آئنے بنا رہے تھے
یقین تھا نہيں ‘ لیکن یقیں دلا رہے تھے

طبیب چیخ رہا تھا کہ عشق لاحق ہے
مگر یہ لوگ ‘ مجھے اور کچھ بتا رہے تھے

مِلا رہا تھا میں دریا کو جب کناروں سے
بہت سے لوگ ابھی کشتیاں بنا رہے تھے

تمہاری نیند میں تھوڑا خلل تو پڑنا تھا
ہمارے خواب کسی اور کو بھی آ رہے تھے

یہ شہر آگ بجھانے میں جب لگا ہوا تھا
ہم اپنے گاؤں کو سیلاب سے بچا رہے تھے

اگر یہ سچ ہے کہ تُو محوِ گفتگو نہيں تھا
تو پھر یہ تیر بتا ‘ کس طرف سے آ رہے تھے

یہی نہيں کہ درختوں پہ وجد طاری تھا
ہمارے شعر پرندے بھی گُنگنا رہے تھے

فقیر موج میں آئے ہوئے تھے ‘ رات گئے
خُدا کے سامنے بیٹھے ‘ خُدا بنا رہے تھے

عمران عامی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے