جو اپنائی نہ گھنگھرو باندھ کر پاؤں نےخاموشی

جو اپنائی نہ گھنگھرو باندھ کر پاؤں نےخاموشی
ہَوَس کو دیکھ کر توڑی تھی قحباؤں نے خاموشی
وہ ساری زندگی سنتی رہی اندر کی چیخوں کو
مہیا کی اُسے بس قبر کی چھاؤں نے خاموشی
مہارت سے گلے میں طوق پہنایا غلامی کا
اُسے چادر کے تحفے میں دی آقاؤں نے خاموشی
بغاوت کا خیال آتے ہی یاد آتی ہیں دستاریں
پلائی ہم کو اپنے دودھ میں ماؤں نے خاموشی
سزائے عشق دینے کو مجھے گاڑا گیا جبکہ
لبوں پر سادھ رکھی تھی مرے گاؤں نے خاموشی
بنے شیطان کچھ مُلّا و پنڈت , پادری جب سے
تو سادھی مسجد و مندر, کلیساؤں نے خاموشی
فریبِ عشق میں آ کر جو گھر کو چھوڑ آئی تھی
اُسے تحفے میں دی مظلوم قحباؤں نے خاموشی
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے