جنوں بغیر گزارا نظر نہیں آتا

جنوں بغیر گزارا نظر نہیں آتا
یہ رنگ ورنہ ہمارا نظر نہیں آتا
نگاہ جاتی ہے، جاتی ہے لوٹ آتی ہے
کہیں سے کوئی اشارا نظر نہیں آتا
یہ عشق کارِ زیاں ہے تو ہو کسی کے لیے
ہمیں تو کوئی خسارا نظر نہیں آتا
یہ خواب خواب ستارے یہ شاخ شاخ گلاب
مگر وہ جس نے پکارا نظر نہیں آتا
وہ سامنے ہے تو جی بھر کے دیکھ لو غائر
کہ ایسا خواب دو بارا نظر نہیں آتا
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے