جتنا بھی ہو گہرا پیار سہیلی سے

جتنا بھی ہو گہرا پیار سہیلی سے
بانٹا جا نہیں سکتا یار , سہیلی سے
بچپن سے ہمراز ہے میرے جیون کی
لڑنا بھی ہو گا بے کار سہیلی سے
اس کی ضد ہے کہ محبوب بھی سانجھا ہو
کیسے کرواؤں انکار سہیلی سے
دل ہی دل میں جانے کب سے مرتی تھی
اور وہ رہتا تھا بےزار , سہیلی سے
میرے نام پہ اکثر ہی چِڑ جاتی تھی
جب وہ کرتا تھا تکرار سہیلی ہے
روزِ اوّل سے دستور ہے دنیا کا
سب کو ملتا ہے آزار سہیلی سے
پٹی باندھ چکی تھی میری آنکھوں پر
مجھ کو خطرہ تھا ہر بار سہیلی سے
برہم ہو کر خوب خبر لی میری بھی
بچ کر آئے جب سرکار, سہیلی سے
جتنا بھی ہو پیار مگر یہ یاد رہے.
سکھیو !تم رہنا ہشیار سہیلی سے.
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے