جسم تیرا لیکن ۔ مرضی پروردگار کی

 

جسم تیرا لیکن۔۔۔۔۔ مرضی پروردگار کی
پیام سحر۔۔۔۔اویس خالد

کورونا کا رونا اب میڈیا سے نکل کر زبانِ ذدِ عام ہے اور ہر طرف اسی کا غُل ہے۔گھر گھر اسی کاچرچاہو رہا ہے۔ایسے میں ہر دوسرے شخص کے اندر کسی ماہر حکیم کی روح حُلول کرگئی ہے اور نت نئی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں۔سن سن کر حیرانی ہوتی ہے کہ اتنا ٹیلنٹ اب تک کہاں چھپا ہوا تھا۔ہم تو یہ سوچ کر بہت پریشان تھے اور قدرے اداس بھی تھے کہ ہمارے ملک میں حکمت دم توڑ چکی ہے اور چند نیم حکیم آثار الصنادید کے طور پر ہی بچے ہیں اور یہ حکمت اپنے حصے کی زندگی جی چکی ہے اور اب ہمیں داغِ مفارقت دے کر ملکِ عدم سدھار چکی ہے لیکن اتنے زہریلے اور خطرناک وائرس کہ جس نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے اور دنیا اسے عالمی خطرہ گردانتے ہوئے خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے۔دنیا جس کو اپنی ٹیکنالوجی کی ترقی پر بڑا مان ہے وہ چیخ رہی ہے اور ان کے قابل ترین ڈاکٹر سر جوڑ کر سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں کہ کسی طرح اس کا تدارک ممکن ہو سکے،سعودی عرب نے خطرے کو بھانپتے ہوئے عمرے تک کے لیے زائرین کو آنے سے روک دیا ہے۔ہلاکتوں کی تعداد کروڑوں میں جانے کا اندیشہ ہے،لیکن اس کا علاج تو ہمارے بچے بچے کے پاس ہے۔ہمارے فیس بک اور واٹس ایپ اسکالرز نے اس کا علاج دریافت بھی کر لیا ہے اور صدقہ جاریہ سمجھتے ہوئے بالکل مفت میں ان ٹوٹکوں کی ہر ممکن تشہیر کر کے اپنی عاقبت بھی سنوار رہے ہیں۔ دنیا علاج پر کروڑوں اربوں ڈالر خرچ کرنے کا سوچ رہی ہے اور ہمارے مفکران وطن نے کوڑیوں کے مول اس کے علاج ڈھونڈ لیے ہیں۔ یہ الگ بات کہ جس خوش نصیب جنس کے حصے میں کورونا کا علاج آئے گا، ان کوڑیوں کے مول بکنے والی اشیاء کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگیں گے اور وہ عام سی چیز بھی غریبوں کی پہنچ سے دور ہو جائے گی۔کسی ناہنجار نے کیا کہہ دیا کہ احتیاطی تدابیر میں ضروری ہے کہ ماسک پہن کر رکھا جائے اور لو جی دس روپے میں دو ملنے والے ماسک کی قیمت مرغی کے گوشت کی قیمت کے برابر ہو گئی۔
کچھ دوکانداروں کی تو خواہش یہ ہے کہ اس کی اہمیت مزید اجاگر کی جائے اور اس کے استعمال پر مزید لیکچر دیے جائیں تا کہ ہم اس کی عزت افزائی میں اضافہ کرتے ہوئے اس کی قیمت کم از کم چھوٹے گوشت کے برابر تو کر سکیں۔کسی نا معلوم حسن ظن رکھنے والے قیافہ شناس نے تو اس کا علاج سیدھے سبھاؤ پیاز میں سے ہی نکال دیا۔اب خدا خیر کرے ورنہ پہلے تو پیاز کاٹتے ہوئے آنسو نکلتے ہیں پھر خریدتے وقت بھی نکلا کریں گے اور غریبوں کے لیے یہ انگور بھی کھٹے ہو جائیں گے۔او راب دیکھتے ہیں کہ آئندہ اس کے علاج کا الزام کس آئیٹم پر لگتا ہے۔مشورہ یہی ہے کہ جس چیزکے سر یہ الزام لگے اسے فوراً سب سے پہلے خرید لیں ورنہ اسے سونے کے بھاؤ بکنے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور یہ اس کا بنیادی حق سمجھا جائے گا۔ اب تو اس کے علاج کے متعلق نسخوں پر بحث و تمحیص کی جا رہی ہے جب کہ ابتدا میں اس کے پھیلنے کے اسباب کے بارے میں بھی اس قوم نے خوب دل کی بھڑاس نکالی تھی،وہ بھڑاس بھی سننے سے تعلق رکھتی تھی۔کورونا وائرس کا سارا الزام ان بے گناہ جانوروں پر لگایا گیا جو ایک عرصے سے ان چائینیز کی بھوک رفع کرنے کا اہم فریضہ ادا کر رہے تھے۔ان جانوروں کا کھانا کوئی نئی بات ہوتی تو یہ منطق مانی بھی جا سکتی تھی لیکن نہیں،ہم نے تو اس بیماری کی وجہ انھیں ثابت کر کے ہی دم لیا۔خیر ایک بات جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ہمیں اسلام کی حقانیت کی قدر توہوئی۔اب بات کرتے ہیں ان باغیوں کی کہ جنھوں نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ” میرا جسم میری مرضی”۔شاید ان کے سمجھنے کے لیے یہ بات کافی ہو کہ تمھارا جسم بھی تمھارے پاس وقتی ہے اور تمھیں ملنے والی صحت بھی بے اختیاری ہے اور تمھاری مرضی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ سب اس پاک پروردگار کی امانت ہے جو تمھیں مختصر سے عرصے کے لیے ودیعت کیا گیا ہے۔لہذا عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ اسی کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلا جائے تا کہ عافیت نصیب ہو۔سنن ابی داؤد کی حدیث نمبر 5088,5090 اور 1554 میں ہر مرض کی شفا کا مستند علاج ہے جو آقا کریمؐ سے ثابت ہے۔کثرت سے اس کا ورد کریں۔اس کے علاوہ یہ حدیث صحاح ستّہ کی دیگر کتب جیسے ترمذی 3388،مسند احمد اور ابن ماجہ میں بھی منقول ہے۔کسی بھی آفت کی صورت میں بہترین علاج توبہ استغفار ہے۔ہمیں بحیثیت قوم پروردگار سے معافی کا خواستگار ہونا چاہیے۔جہاں قوم کو اتنے دن منانے کی عادت پڑ چکی ہے تو کوئی مضائقہ نہیں کہ ایک دن استغفار کا بھی رکھ لیں۔جس دن ہر کوئی توبہ کرے اور جیسے دوسرے دن منائے جاتے ہیں اسی طرح وہ دن دوسروں کو توبہ کی تلقین کر کے منایا جائے۔اسی بہانے مصروف زندگی میں توبہ کے لیے بھی کچھ وقت مل نکل آئے گا۔دعا ہے کہ ہمارا ملک اس عذاب سے اور ہماری عوام اس عذاب کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں سے محفوظ رہے،آمین

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے