جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو

جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو
سنگِ مرمر، اودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہو

بھکشو دانی، پیاسا پانی، دریا ساگر، جل گاگر
گلشن خوشبو، کوئل کو کو، مستی دارو، میں اور تُو

بانبی ناگن، چھایا آنگن، گنگھرو چھن چھن، آشا من
آنکھیں کاجل، پربت بادل، وہ زلفیں اور یہ بازو

راتیں مہکی، سانسیں دہکی، نظریں بہکی، رُت لہکی
پریم کھلونا، سپن سلونا، پھول بچھونا، وہ پہلو

تم سے دوری، یہ مجبوری، زخمِ کاری، بیداری
تنہا راتیں، سپنے کاتیں، خود سے باتیں میری خُو

جاوید اختر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے