جس طرح رات میں سحر آثار ہے کوئی

جس طرح رات میں سحر آثار ہے کوئی
انکار میں چھپا ہوا اقرار ہے کوئی

لہروں کے ساتھ ساتھ مچلتا ہے عکس بھی
آبِ رواں میں جسم گرفتار ہے کوئی

بکھری ہوئی ہے میری تمنا اِدھر اُدھر
اور درمیان حسرتِ اظہار ہے کوئی

وحشت ہے ناچتی کہ بگولے ہیں رقص میں
صحرا میں گونجتی ہوئی جھنکار ہے کوئی

جو کھنچتا ہے روح کو اپنی طرف مدام
اسعد حدودِ جسم کے اس پار ہے کوئی

بلال اسعد 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے