جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں

جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں

دن بدلتے نہیں

رات کٹتی نہیں

زندگی بیت جاتی ہے لیکن گزرتی نہیں

جس طرح سرد راتوں میں تاریک رستوں پہ دھند ایسے چھا جاتی ہے
راہ گیروں کی آنکھیں ہی کھا جاتی ہے

جس طرح کوئی دن گرمیوں کی سلگتی ہوئی دوپہر یوں ٹھہر جاتی ہے
جیسے مغرب کی سمت اس جہاں میں ابھی تک بنی ہی نہ ہو

جس طرح کچھ بھی, کیسا بھی, کتنا بھی ہو جاتا ہے

جس طرح سب سمجھ کر بھی ہم سب سمجھتے نہیں

بالکل ایسے ہی اس سال کے اک مہینے میں میری گھڑی رک گئی
وقت چلتا رہا.۔….. یہ چلی ہی نہیں

اس لیے یہ برس اب کبھی ختم ہونا نہیں

آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے