جس نے ساری عمر کاٹی مفلسی کی قید میں

جس نے ساری عمر کاٹی مفلسی کی قید میں
آج بھی زندہ ہے دیکھو زندگی کی قید میں

قابلِ تعزیر ٹھہرا ہے اجالے کا سفیر
ایک جگنو مر گیا ہے روشنی کی قید میں

کتنا مشکل اِن کو رکھنا قلب کے زندان میں
خواہشیں ماتم کناں ہیں آدمی کی قید میں

ساری دنیا کی امامت سے ہوا جو سرفراز
وہ مسلماں آ گیا ہے مقتدی کی قید میں

جس پہ چلتا ہی نہیں تھا جادو ٹُونے کا اثر
وہ بھی دیکھو آ گیا ہے سامری کی قید میں

اُس کے سارے لفظ پابندِ سلاسل ہو گئے
اک سخنور جی رہا تھا آگہی کی قید میں

اب تری آواز صابرؔ کوئی سن سکتا نہیں
حرف گونگے ہو گئے ہیں خامشی کی قید میں

ایوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے