جن کا پی سنگ بیتے ساون

جن کا پی سنگ بیتے ساون ان دلہن کی رین سہاگن
وارث شاہ سال کے مہینوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جیٹھ کے مہینے میں مینہ منع ہے۔ برصغیر میں اس مہینے میں لو چلتی ہے۔ گرمی اتنی شدت کی پڑتی ہے کہ چیل انڈہ چھوڑ دیتی ہے۔ جوں جوں گرمی بڑھتی ہے، فصلیں سوکھ جاتی ہیں۔ بارش کی دعائیں اور امیدیں کسان کا اکلوتا سہارا ہوتی ہیں۔ آندھیاں شروع ہو جاتی ہیں، فضا گرد آلود ہو کر زمین پر چھا جاتی ہے۔ ، صر ف ایک ہی آس ہوتی ہے کہ جتنی گرمی بڑھے گی بارش بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔
’تپے جیٹھ تو برکھا ہو بھر پیٹ‘ ۔ بارش زیادہ ہو گی تو خشک اور اونچے علاقوں کے رہنے والے خوش ہو ں گے جبکہ دریائی علاقے سیلاب کے پانی سے بھر جائیں گے، ’چیت تپت ہو برکھا گہری، ہنسے بانگرو رووے نہری‘ ۔ اس کے بعد آتا ہے اساڑھ کا مہینہ۔ گرمی کی شدت اور بڑھ جاتی۔ لوگ زمین پر ننگے بدن لوٹتے ہیں۔ ایک ہی دہائی ہوتی ہے ”کالے مینگھا پانی دے۔“ اس مہینے جوتشی سدی پور نماشی کے دن ہوا کا رخ دیکھ کر اچھے موسم کی پشین گوئی کرتے ہیں۔ ابھی آدھا مہینہ ہی گزر تا ہے کہ بارشیں شروع ہو جاتی ہیں۔ آدھا اساڑھ بیڑی پار۔ اب ہو جاتے ہیں شروع، برسا ت کے دن ا ور مہینے : : اساڑھ، ساون، بھادوں، کنوار۔
برکھا برستی ہے تو ہر طرف ہریالی ہی ہریالی چھا جاتی ہے۔ لہلہاتے کھیت دیکھ کر زندگی بھی رقص کرنے لگتی ہے۔ روح ایسی تازہ ہو جاتی ہے کہ لبوں پر نغمے اور پنگھٹ پر رونق آ جاتی ہے۔
برسیں اساڑھ گھٹائیں گھنگھور، بجلیاں چمکے سر پر
زمین جل رہی تھی، صحرا سلگ رہے تھے، آسمان نے پانی برسا کر اس آگ کو بجھا دیا لیکن اس پانی نے جو آگ لگائی۔
گوری بھج (بھیگ کر) کے پانی وچوں نکلی
تے بدلاں نوں اگ لگ گئی
اس آگ کو کون ٹھنڈا کرے گا۔
چڑھا ساون، بجا مارو نقارا
سجن بن کون ہے، ساتھی ہمارا
گھٹا کاری چاروں اور چھا جاتی ہے۔ پرندے چہچہانے لگتے ہیں۔
ارے جب کوک کوئل نے سنائی
تمامی تن بدن میں آگ لائی
چلا ساون مگر ساجن نہ آئے
اری کن رتیوں نے ٹونے چلائے
پھر بھادوں آتا ہے تو بارش اور بھی ٹوٹ کر برستی ہے
سکھی! بھادوں نپٹ تپتی پڑے ری
تمامی تن بدن میرا جرے ری
سبھی سکھیاں پیا سنگ سکھ کرت ہیں
ہمن سی پاپیاں نت دکھ بھرت ہیں
(افضل پانی پتی)
برکھا کے اس موسم میں جدائی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔
جن کا پی سنگ بیتے ساون ان دلہن کی رین سہاگن
جس ساوان میں پیا گھر ناہیں آگ لگے ایسے ساون کو (امیر خسرو)
زمیں سے آسماں تک جل کا اک تھل
سکھی آتش بجھی میری نہ اک پل
اس دکھ کا علاج شراب وصل ہی ہے۔ حافظ شیرازی نے کہا تھا
می دمد صبح و کلہ بستہ سحاب
الصبوح و الصبوح یا اصحاب
صبح طلوع ہو رہی ہے، ابر پردہ تانے ہوئے ہے، گھٹا ئیں چھائی ہوئی ہیں، اے ساتھیو! صبح کی شراب لاؤ۔
ابر آمد و باز بر سبزہ گریست
بی بادہ ی گلرنگ نمی باید زیست (عمر خیام)
ابر آیا اور سبزے کے سر پر خوب برسا، ان حالات میں سرخ شراب کے بغیر زندگی بسر نہیں کرنی چاہیے۔
اس برسات میں گرمی بھی عروج پر ہوتی ہے لیکن بارش کے پانی اور کسان کے پسینے سے شجر تمنا بار آور ہو تا ہے۔
ساقی مے ماز عارض پر خؤے تست (عمر خیام)
اے ساقی! ہماری شراب تیرے پسینے بھرے رخساروں سے ہے۔
جس چمن میں پسینے سے شرابور ساقی ہو وہاں ابر و باراں کا فیض لہلہاتی فصل اور وفا کے گل بوٹوں کی نشو نما کی شکل میں نظر آتا ہے۔
دراں چمن کہ منم فیض ابر و باراں بیں ( نظیر نیشا پوری)
پنجابی ہو، اردو ہو یا فارسی شاعر، سب جیٹھ کی گرمی کے بعدساون رت اور اڑتی پروا دیکھ کر پر امید ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اس گرمی اور بارش کے امتزاج سے اس موسم میں پھول کھلتے ہیں، دل ملتے ہیں۔ برسات اپنی گرمی اور حبس کی موجودگی میں خوشحالی کی علامت ہے۔ بارش سے فصلیں اگتی ہیں، کھیت لہلہاتے ہیں۔ یہ گرمی، یہ بارش کسان کے گھر کو اناج سے بھر دیتی ہے۔ برکھا رت میں سہاگنیں سیج سجاتی ہیں اور وصل سے نئی امیدیں بر آتی ہیں۔
سید محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے