جھوٹ پر صاد کرنا پڑتا ہے

جھوٹ پر ۔۔ صاد کرنا پڑتا ہے
بخت برباد کرنا پڑتا ہے

دوستوں کو سمجھنا سہل نہیں
سانپ، اُستاد کرنا پڑتا ہے

اور تو کچھ نہیں گِلہ تجھ سے
بس تجھے یاد کرنا پڑتا ہے

اب میں تحفے قبول کرتا نہیں
میز آباد کرنا پڑتا ہے

مشورہ کر تو لیں نمک سے ہم
زخم ایجاد کرنا پڑتا ہے

علی زیرک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے