جُھومتی ، دف بجاتی ، گاتی موت

جُھومتی ، دف بجاتی ، گاتی موت
لمحہ لمحہ قریب آتی موت
خُلد سے فرش پر گِرے سو گِرے
ساتھ بھیجی گئی حیاتی ، موت
خلق نالاں تھی اس طبیعی پر
پھر ملی کچھ کو حادثاتی موت
خود فریبی کا نام جو بھی رکھو
زندگی ہے تو جینیاتی موت
کیا بتاؤں کہ گام گام یہاں
سہنا پڑتی ہے نظریاتی موت
وقت پیہم ہتھوڑا چلتا ہوا !
اپنی چکّی الگ گُھماتی موت
سب طرفدار میرے کھوئے گئے
ایسی دشمن ہے میری ذاتی موت
صائمہ آفتاب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے