جہاں ہوتے کسی چشم ستارہ یاب میں ہوتے

جہاں ہوتے کسی چشم ستارہ یاب میں ہوتے
ہم ایسے لوگ ہر لحظہ حصار آب میں ہوتے
تو پھر ہم پر بھی کھلتا حسن تیرے عارض و لب کا
اگر کچھ اور چہرے بھی ہمارے خواب میں ہوتے
یہ مٹی پاؤں میں زنجیر کی صورت ہے ورنہ ہم
زمیں کو چھوڑ کر اک خطۂ شاداب میں ہوتے
سمندر کو بپھرتے دیکھ کر یہ جی میں آتا ہے
کبھی ہم بھی مقید شعلۂ مہتاب میں ہوتے
ہمیں بھی کیا ضروری تھا تعلق دنیا داروں سے
اگر ہم آپ اپنے حلقۂ احباب میں ہوتے
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے