جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے

جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے
بڑی مشکل سے احساس شکست ساز ہوتا ہے
ہمیں کیا آپ انجام محبت سے ڈراتے ہیں
ہمارے خون سے ہر دور کا آغاز ہوتا ہے
قفس ہے دام ہے بھڑکی ہوئی ہے آتش گل بھی
اسی ماحول میں اندازۂ پرواز ہوتا ہے
پگھل جاتی ہیں زنجیریں سلگ اٹھتی ہیں دیواریں
لب خاموش میں وہ شعلۂ آواز ہوتا ہے
محبت کی حقیقت کھل گئی چاک گریباں سے
جنوں بھی ایک منزل میں زمانہ ساز ہوتا ہے
ہمیں پر منحصر ہے رونق بزم جہاں قابلؔ
کوئی نغمہ ہو اپنا ہی رہین ساز ہوتا ہے
قابل اجمیری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے