جیسے پانی کی روانی کو بھنور کاٹتے ہیں

جیسے پانی کی روانی کو بھنور کاٹتے ہیں
ایسے کچھ لوگ مری راہ گزر کاٹتے ہیں

ایک تصویر بناتے ہیں زمیں پر پہلے
اور پھر بعد میں تصویر کا سر کاٹتے ہیں

پیار کا دیتے ہیں ہم اور محبت سے جواب
زہر کا زہر سے ہم لوگ – اثر کاٹتے ہیں

زرد راتوں میں کبھی غور کیا ہے تم نے
چاند کے نوحے شبِ غم کا جگر کاٹتے ہیں

ڈھل گئی عمر تو بچوں نے کہا ہے بابا !
لوگ ایندھن کےلیے سوکھے شجر کاٹتے ہیں

ہم کو پردیس میں یاد ان کی ستاتی ہے بہت
اور جب لوٹ کے آتے ہیں تو گھر کاٹتے ہیں

ہم جو چپ سادھ کے بیٹھے ہیں تری محفل میں
لفظ کی دھار سے قاتل کی نظر کاٹتے ہیں

دشتِ افلاس کی ان بانجھ زمینوں کی قسم
ہم شجر بوتے ہیں تو لوگ – ثمر کاٹتے ہیں

تم عدید اپنے دکھوں کے نہ سناو قصے
درد کی فصل تو ہم شام و سحر کاٹتے ہیں

سید عدید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے