جسے ڈبو کے گیا تھا حباب پانی میں

جسے ڈبو کے گیا تھا حباب پانی میں
لہر وہ کھاتی رہی پیچ و تاب پانی میں
کبھی تو تارِ رگِ جاں بھی چھیڑ کر دیکھو
بجانے جاتے ہو اکثر رباب پانی میں
تری نگاہ بہت ہے مرے لئے ساقی
نہ گھول مجھ کو بنا کر شراب پانی میں
خبر چھپی ہے جو لڑکی کی وہ نئی تو نہیں
اُتر گئی تھی جو ہو کر خراب پانی میں
پھر اپنی آگ بجھانے کوئی کہاں جائے
لگائے آگ اگر ماہتاب پانی میں
گہر ہمارے بھی نیناں کے دیکھ لو آ کر
تمام سیپ نہیں لا جواب پانی میں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے