جینا اب اور نہ دشوار بناؤ ، جاؤ

جینا اب اور نہ دشوار بناؤ ، جاؤ
زندگی! درد کا سامان اٹھاؤ ، جاؤ
ہم محبت بھی عبادت کی طرح کرتے ہیں
واعظو! ہم کو عبادت نہ سکھاؤ، جاؤ
ہے ہمیں راس یہ گم نام جزیرے کی فضا
گر کمانا ہے تمہیں نام، کماؤ، جاؤ
ہم نے ہم وار بنا ڈالا ہے اُس کا رستہ
وادیِ عشق میں آرام سے آؤ ، جاؤ
تم کو اک ہجر نے بے حال سا کر رکھا ہے
جاؤ، ہم کو یہ کہانی نہ سناؤ، جاؤ
جو ہمہ وقت لگاتا تھا اَنا الحق کی صدا
وہی مجذوب ابھی ڈھونڈ کے لاؤ ، جاؤ
مت ڈرو دشت کے پر خوف علاقے میں سعید
آ گئے ہو تو یہاں خاک اڑاؤ ، جاؤ
مبشر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے