جی رشک سے گئے جو ادھر کو صبا چلی

جی رشک سے گئے جو ادھر کو صبا چلی
کیا کہیے آج صبح عجب کچھ ہوا چلی
کیا رنگ و بو و بادسحر سب ہیں گرم راہ
کیا ہے جو اس چمن میں ہے ایسی چلا چلی
تو دو قدم جو راہ چلا گرم اے نگار
مہندی کفک کی آگ دلوں میں لگا چلی
فتنہ ہے اس سے شہر میں برپا ہزار جا
تلوار اس کی چال پہ کیا ایک جا چلی
یہ جور و جورکش تھے کہاں آگے عشق میں
تجھ سے جفا و میر سے رسم وفا چلی
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے