جب عشق کا رستہ دیکھا تھا

جب عشق کا رستہ دیکھا تھا پھر موت نظارےدیکھے تھے
تب نیند نہیں آٸی ہم کو جب خواب اشارے دیکھے تھے
نا ہار ہماری ہوتی تھی نا جیت ہماری ہوتی تھی
اک روگ لیاتھاجاں پہ پھر دن رات خسارے دیکھے تھے
جب شام پڑی تو دیکھا تھا اک چاند ہمارے سر پہ ہے
اُس چاندکی روشن کرنوں میں پھر گال تمھارے دیکھے تھے
ہم عشق سمندرمیں کوُدے اورڈُوب گٸےتہہ میں اُس کی
اک جشن بپاتھا ہر جانب اورجال کنارے دیکھےتھے
جس کوہ پہ موسٰی جاتے تھے وہ طُور بھی دیکھا خوابوں میں
پھر روک سکے نہ خود کو ہم اورحسن شرارے دیکھے تھے
اک دَوربھی آیا جیون میں جب حال ہمارا ابتر تھا
اُس وقت سےپہلے لوگوں نے کچھ بال سنوارے دیکھے تھا
جوہجرلکھاتھا قسمت میں وہ اوڑھ لیا ہم نے اُوپر
پھرہوش بھی کھو بیٹھےاپنا جب درد پٹارے دیکھے تھے
اُن جھیل سی آنکھوں میں مَیں نےاک جیت کامنظر دیکھا تھا
جب چاک گریباں خاروں سے اور جوگ ہمارے دیکھے تھے
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے