جذبوں کا شاعر

جذبوں کا شاعر
شجاع شاذ ایک ایسا شاعر ہے جو کائنات کو خوبصورت دیکھنے کا خواہش مند ہے۔ اس کے ہاں خواہش عجیب انگڑائی لیتی ہے۔ کبھی تو وہ انسانی رویوں پر بہت دکھ کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ کرب سے کہتا ہے کہ ”محبت بدلتی رہتی ہے“ اور اس نے اپنی کتاب کا نام بھی یہی رکھا ہے۔ وہ معاشرے میں رہتے ہوئے بھی معاشرے سے کٹا ہوا فرد نظر آتا ہے۔ وہ انسان کے رویے اور محبت کے مدو جزر کو دیکھتے ہوئے بڑے کرب کا اظہار کرتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ شجاع شاذ رازِ حیات پا گیا ہے۔ رہی بات ”محبت بدلتی رہتی ہے“ کی تو سچ یہی ہے کہ محبت بدلتی رہتی ہے۔
یہ بھی عجیب راز ہے ہر کسی پر منکشف نہیں ہوتا۔ شجاع شاذ اس کیفیت سے گزرا ہے تو اس نے جانا کہ رویوں میں تبدیلی کیوں آتی ہے۔ بلکہ یوں کہ محبت کے ساتھ ساتھ رویوں میں تبدیلی کیوں آتی ہے۔
شجاع شاذ محبت کی ایک حالت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ محبت کو بدلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ اسی لیے اس کے ہاں متضاد تخیل جنم لیتے ہیں اور وہ بڑے کرب کے ساتھ اظہار کرتا ہے۔ شعر دیکھئے۔
مرا جنوں مری وحشت بدلتی رہتی ہے
ترے مریض کی حالت بدلتی رہتی ہے
مجھے یہ غم نہیں کوئی نہیں ہے ساتھ مرے
مجھے یہ غم ہے محبت بدلتی رہتی ہے
کنول کا بیج ہوں اور خاک پر پڑا ہوا ہوں
دعا کروں میں کسی جھیل تک پہنچ جاؤں
میں سمجھتا ہوں کہ شاذ کے ہاں وحشت کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ محبت اور وحشت کا بدلنا ایک ارتقائی عمل ہے اور شجاع شاذ نے اس سارے عذاب و کرب کو بڑی خوب صورتی سے شعروں کے پیکر میں ڈھالا ہے۔
اور اسی لیے تو میں اسے جذبوں اور خواب و خواہش کا شاعر کہتا ہوں۔ شاذ کے ہاں سخن کے کئی چشمے ہیں اور اس نے ان کو جھیل سے ہم کنار کیا ہے اور اس نے جھیل میں کئی بیج بوئے ہیں جو پہلے کہیں خاک پر پڑے ہوئے تھے۔ اور اب وہی بیج وا ہو کر کنول کھلے ہیں۔ میں جب بھی شجاع شاذ کا چہرہ دیکھتا ہوں تو یہ کنول اور بھی خوب صورت لگتے ہیں۔۔۔شجا ع شاذ کی شاعری پر میں بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں مگر پھر کبھی اس وقت نہیں سمجھتا ہوں اگر شجا ع شاذ اسی طرح کنول کے بیج بوتا رہا تو یقینا وہ سارے میں پھیلے ہوئے پانی میں کنول ضرور کھلاتا رہے گا۔ اُس کی اِ س خواہش پرمیں بہت خوش ہوں اور شجاع شاذ اگر اس ہنر سے روشناس ہو گیا ہے تو میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح کے کنول پھول ضرور کھلاتا رہے گا۔ اور میں دعا کرتا ہوں کہ شجاع شاذ کی جھیل ہمیشہ رواں دواں رہے۔ اور ایک دن یہی جھیل ایک سمندر میں بدل جائے اور پھر شاذ ہر طرف مسکراتا ہوا نظر آئے۔ (آمین)
رفیق لودھی
8ستمبر2006

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے