جائزہ

 جائزہ
بات دل جلانےکی
بے وجہ ستانےکی
زخمِ دل لگانے کی
اور مجھے گرانےکی
اپنا یا پرایا ہو
دوست ہو یا دشمن ہو
سالِ نو ہو یا کوئی
زندگی کا گزرا پل
کچھ منافقوں کےساتھ
حاسدوں کے گھیرے میں
طنزیہ نگاہوں میں
مارِ آستیں ہیں جو
غرض کے پجاری ہیں
وقت اب بھی گزرے گا
میرا ایک جیسا ہی
ھاں مگر……..
مقدر نے
مجھ کو چند ایسے لوگ
بخش کر
جو ہیں دل کے سچے
اور پیار کرنے والے ہیں
اب مجھے یقیں ہے
ان کے ساتھ میرا
وقت خوب گزرے گا
اور یہ برس آخر
مجھ پہ مہرباں ہو گا
تسلیم اکرام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے