جوازِ عیدِ میلاد النبیؐ

جوازِ عیدِ میلاد النبیؐ

کامیابی اور خوشی کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ہر انسان اپنی ہر قسم کی کامیابی پرکھُل کر خوشی منانے کا فطری مزاج رکھتا ہے۔یوں کہہ لیجیے کہ خوشی منانے کے لیے کسی دلیل کی نہیں بلکہ اپنی خوشی کی ضرورت ہوتی ہے۔بس کامیابی ملی اورانسان کی طبیعت شاد ہو گئی۔خوشی مناتا بھی وہی ہے جو کامیاب ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ایک میچ میں نتیجے کے بعد ایک ٹیم جیت جاتی ہے،وہ خوشیاں مناتی ہے اور دوسری ٹیم ہار کر افسردہ ہو جاتی ہے۔میچ کا نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے لیکن دونوں ٹیموں کے لیے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ایک کے لیے خوشی کا باعث اور دوسرے کے لیے افسردگی کا سبب بنتا ہے۔جس نے سمجھا کہ اس کو فتح ملی وہ خوش جس نے سمجھا کہ وہ شکست کھا گیا تو وہ غمگین ہو جاتا ہے۔گویا خوشی کا تعلق جیت سے ہے، کامیابی سے ہے۔ہم سب ڈھیروں مقامات پر جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہوئے ہیں اپنے اپنے انداز سے خوشیاں مناتے ہیں۔

ایک طالب علم اچھے نتیجے پر خوشیاں مناتا ہے۔ایک تاجر اچھی خرید و فروخت پر شاد ہوتا ہے۔ہر فرد ترقی پا کر پھولے نہیں سماتا۔اولاد ملتی ہے تو مٹھایاں تقسیم کرتا ہے۔سالگرہ کے نام پربچے کی پیدایش کی خوشیاں منانے کے لیے تقریبات کرتا ہے۔بس بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مجھ پر کرم ہو گیا ہےMasjid Nabvi،فضل ہو گیا ہے،رحمت ہو گئی ہے۔ہم سب ہر نعمت پر پروردگار کاشکر ادا کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔نہ کریں تو کفرانِ نعمت ہو گا۔شکر ادا نہ کرنے والا نا شکرا کہلائے گا۔اب دیکھتے ہیں کہ اس بارے میں پروردگار نے قرآن میں کیا کہا ہے۔سورۃ یونس:58 میں مفہوم ہے کہ فرما دیجیے کہ جب اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہو تو تم سب خوشیاں مناؤ اور یہ اس سے بہتر ہے جو تم جمع کرتے ہو۔سورۃ آل عمران:171 میں ہے جس کا مفہوم ہے۔وہ پروردگار کی طرف سے نعمت اور فضل پر خوشیاں منا رہے ہیں۔سورۃ النساء:37 کا مفہوم ہے کہ جو لوگ بخل کرتے ہیں اور بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور پروردگار نے ان کو جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس کو چھپاتے ہیں۔پھر سورۃ النمل:73 میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ بے شک آپ کا رب لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

اب سنیے اگر یہ فضل و رحمت نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔سورۃ النور:10 کا مفہوم ہے کہ اگر تم پر یہ فضل ورحمت نہ ہوتی(تو بہت جلد میرا عذاب نازل ہو جاتا)،بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا بڑا رحیم ہے۔آگے چل کر سورۃ النور:21 میں آیا کہ جس کا مفہوم ہے کہ اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کسی کا بھی باطن پاک نہ ہوتا۔اب ذرا باطن کی پاکیزگی کا بھی سن لیتے ہیں کہ پروردگار یہ ہمیں کس کے زریعے سے عطا کرتا ہے۔سورۃ الجمعہ:02 کا مفہوم ہے کہ وہی رب ہے جس نے تم میں سے ہی رسول بھیجے کہ وہ میری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں تمہیں پاک کرتے ہیں اورتمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور اس سے قبل تم کھلی گمراہی میں تھے۔یعنی نبیؐ ہی خالق کے حکم سے مخلوق کا تذکیہ کرتے ہیں۔یعنی وہی تو ہم سب کے لیے رحمت ہیں۔جیسا کہ سورۃ الانبیاء؛107 میں ہے جس کا مفہوم ہے کہ اور ہم نے آپؐ کو نہیں بھیجا مگر سب جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔بلاشبہ نبیؐ ہی توہیں جو وجہ تخلیق کائنات ہیں۔آپؐ ہی تو وجہ قیام کائنات ہیں اور آپؐ ہی وجہ نجات کائنات ہوں گے۔ایک آدمی اپنی ذات کے لیے باعث رحمت نہیں ہو سکتا اور آپؐ تو ان جہانوں کے لیے بھی رحمت بن کر آئے جن کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔تمام گفتگو کا ماحصل یہ ہوا کہ کائنات کی سب سے بڑی نعمت،رحمت اور پروردگار کا فضل تو آپؐ کی ہستی مبارک ہے۔تو پھر کون ہو گا جو اتنی بڑی نعمت کے ملنے پر خوش نہیں ہو گا اور خوشیاں نہیں منائے گا۔اس کے فضل پرخوشی منانے کا حکم اسی کا ہی تو ہے بلکہ شکر ادا نہ کرنے والوں سے تو پروردگار کا شکوہ بھی ہے۔جیسے مندرجہ بالا سطور میں سورۃ النساء:37 اور سورۃ النمل:73 کا ذکر گذرا ہے۔اسی طرح سورۃ یوسف:38 اورسورۃ المومن:61 میں بھی کہا گیا کہ ان پر فضل ہے مگر یہ شکر ادا نہیں کرتے۔اب مقدمہ آپ کی عقل کی عدالت میں پیش کرتے ہیں کہ فضل و رحمت پر خوشیاں منانا حکم الہی ہے یا اس خوشی پر منہ بسور کر رہنا،خوشی چھپانااور خوشیاں منانے والوں پر فتوے لگانا؟؟اب تھوڑی بات کرتے ہیں لفظ عید پر۔یہ تیسری عید کہاں سے آئی اسلام میں تو دو عیدیں ہیں۔عید کا معنی ہے خوشیاں منانا۔بالکل وہ دو ہی عیدیں ہیں جن کا احباب ذکر کرتے ہیں لیکن اور بھی تو سنیے۔ترمذی میں ہے کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے۔ترمذی:3044 میں ہے کہ الیوم اکملت۔۔۔۔آیت نازل ہوئی تو ایک یہودی کہنے لگا اگر ہماری کتاب میں یہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن عید مناتے۔عمر فاروقؓ نے فرمایاکہ مجھے یاد ہے کہ وہ عید کا دن ہی تھا۔یعنی جمعہ بھی تھا اور عرفہ بھی۔پھر المائدہ:114 میں آسمان سے دسترخوان نازل ہونے والی دعائیہ آیت پڑھیں کہ وہ دن عید کا دن قرار پائے تو پروردگار نے اس لفظ سے منع نہیں فرمایا۔ پھر کہا جاتا ہے صحابہؓ نے نہیں منائی۔تو کہنے والوں سے سوال ہے کہ آپ شان صحابہؓ کانفرنس،دورہ شرح بخاری،ختم القرآن وغیرہ یا دیگر تقاریب کرتے ہیں، کیا صحابہؓ نے کی؟؟آپ اپنے نام کے ساتھ مفتی،حافظ اور حاجی لگاتے ہیں کیا صحابہؓ نے یہ تکلف فرمایا؟؟ہم ایسے کئی کاموں کی فہرست بتا سکتے ہیں جو صحابہؓ نے نہیں کیے مگر آپ شوق سے کرتے ہیں۔اور شریعت سے نہیں ٹکراتے لہذا کرنے میں حرج نہیں۔اب سنیے کہ صحابہؓ نے تو بڑی عقیدت سے نبی پاکؐ کی ولادت کا تذکرہ کیا بھی اور سنا بھی۔اس سال سب کو بیٹے عطا ہوئے۔حلیمہ سعدیہؓ نے جو واقعات سنائے ان سے کتب بھری پڑی ہیں۔بس مقدمہ واضح ہے کہ اپنے اوپر ذرا احسانات دیکھیے،فضل اور رحمت دیکھیے کہ لا تعداد گناہوں کے باوجود شکلیں نہیں بدلتیں،گناہ ماتھے پر یا گھر کے باہر نہیں لکھے جاتے، نیکی کے صرف ارادے سے ہی نیکی لکھ دی جاتی ہے۔کیا کیا نوازشیں ہیں جو سرکارؐ کے صدقے ہم پر ہیں۔جس کام سے پروردگار نہ روکے سرکار ؐنہ روکیں تو کوئی کیسے روک سکتا ہے۔یعنی جس کام سے نہیں روکا اس کا کرنا بدعت نہیں بلکہ اس کو روکنا(دین میں نئی چیز) بدعت ہو گا۔ ہاں یہ ہے کہ اس کو منانے کے طریقہ کار پر اختلاف ہے اس میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔بینڈ باجوں سے،ہر طرح کی موسیقی سے،گانوں کی طرز پر نعتیں پڑھنے سے،مقدس مقامات کے ماڈل بنانے اور پھر ان کو توڑنے سے،جھنڈیوں کی بعد میں بے حرمتی کرنے سے،کیک پر آپؐکا نام لکھ کر کاٹنے سے اور راستوں کو ایسے روکنے سے کہ آمد و رفت معطل ہو،ہر ممکن احتراز کرنا چاہیے۔انتہائی ادب سے درود و سلام پڑھتے ہوئے جلوس میں شرکت کرنی چاہیے۔پروردگار عمل کی توفیق دے،آمین

اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے