جسدِ خاک اڑاتی رہی اِس طور ہَوا

جسدِ خاک اڑاتی رہی اِس طور ہَوا
عمر بھر مدّ مقابل رہے مَیں اور ہَوا
اک دِیا آندھیوں میں جلتا رہا شان کے ساتھ
آئی تھی شور مچاتے ہوئے پُر زور ہَوا
ایک دن بیٹھ کے باتیں ہوئیں تھیں اپنے بیچ
ذکر تیرا ہی مگر کرتے تھے مَیں اور ہَوا
جانے کس بَیر سے وہ تیرے سنبھالے ہوئے خط
لے اُڑی تھی کھُلی الماری سے یہ چور ہَوا
دستکیں اور ہی احساس دِلا کے گزریں
کھٹکھٹاتی رہی دروازے کو پُر شور ہَوا
کاروبارِ ہوس آیا تھا اک بار سمیرؔ
شہر کا شہر اُڑا لے گئی منہ زور ہَوا
سمیرؔ شمس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے