جاؤں نبیﷺ کے در پہ تمنا سدا سے تھی

جاؤں نبیﷺ کے در پہ تمنا سدا سے تھی
دل میں بسی لگن سی تھی اک عمر سے یہی
آنکھوں میں دھند چھا گئی پہنچی جو ارضِ پاک
پوری ہوئی کرم سے خدا کے دعا مری
مانوسیت تھی ساری فضا میں گھلی ہوئی
یوں لگ رہا تھا کب سے نجانے یہیں میں تھی
اتنا جمال آنکھوں نے دیکھا نہ تھا کبھی
اس شہر کی تو یعنی منور تھی ہر گلی
روضے کی جالیوں کو ذرا چھو کے یوں لگا
سرشار ہو کے دل کی مرے ہر کلی کھلی
آنکھوں کو بند کرکے میں خاموش آپ ؐسے
باتیں کیے گئی ، وہیں روتی رہی کھڑی
کانوں میں گونجتی تھیں مرے دل کی دھڑکنیں
اک بے خودی کے کیف میں ڈوبی تھی زندگی
وہ لمحۂ ملال بھی آخر کو آ گیا
شہرِ نبیﷺ سے کوچ کی جب آ گئی گھڑی
جاؤں ہزار بار میں پھر سے وہاں غزلؔ
رہتی ہے روز و شب مرے لب ہر دعا یہی
مہ جبیں غزل انصاری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے