جاؤں گی اب نہ آپ کی

جاؤں گی اب نہ آپ کی دہلیز چھوڑ کر
خوش رنگیءِ حیات کی تجویز چھوڑ کر
نظروں سے کچھ عبادتیں کرنے کے واسطے
دیکھوں گی صرف آپ کو ہر چیز چھوڑ کر
پہنیں تمھارے عشق کی مالائیں میں نے اب
گہنے تمام بھول کے تعویز چھوڑ کر
کرتا ہے ان پہ آسماں پھولوں کی بارشیں
جاتے نہیں جو یار کی دہلیز چھوڑ کر
حسن و جمال چھپ گیا چلمن کی اوٹ میں
شوقِ نگاہِ یار کو مہمیز چھوڑ کر
مہکی ہوئی سی آئی جو بادِ نسیم تو
ہم بھی چمن کو چل دئیے پالیز چھوڑ کر

منزہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے