جانے کہاں پہ دل ہے رکھا!

جانے کہاں پہ دل ہے رکھا!
آج کا دن بھی، پھیکا پھیکا
کھڑکی سے چھپ کر تکتا ہے
میں ہاری ،یا وہ ہے جیتا
روز کا ہی معمول ہے یہ تو
کل بھی بیتا آج بھی بیتا
درد بھی ویسا ہی بالکل ہے
تھوڑا تھوڑا، میٹھا میٹھا
چولھا، چوکا، جھاڑو، پونچھا
سب کچھ کر بیٹھی تب سوچا
ہر شے پونچھ کے ، جھاڑ کے دیکھا
جانے کہاں پہ دل ہے رکھا ۔۔۔!!!
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے