جانِ عالم ہو، کوئی کیونکر جُدا رکھّے تمھیں

جانِ عالم ہو، کوئی کیونکر جُدا رکھّے تمھیں
زندگی ہے اے بُتو تم سے، خُدا رکھّے تمھیں

خود نُما ہو تم، کوئی پردے میں کیا رکھّے تمھیں
وہ رکھے درپردہ ، جو دِل میں چُھپا رکھے تمھیں

حضرتِ دِل! کیا کروں میں خُو ہے اُلٹی آپ کی !
تم اُسی سے رہتے ہو خوش، جو خفا رکھّے تمھیں

تم تو ہو عیّار، لیکن وہ بڑا عیّار ہے
اِس بگڑنے پر جو یار اپنا بنا رکھّے تمھیں

اُس کے حُسنِ حیرت افزا کو جو دیکھو، اے ظفر !
عمر بھر آئینہ ساں وہ چشم وا رکھّے تمھیں

بہادر شاہ ظفرؔ​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے