جلتے سینے میں ابھی سوختنی ہے کیا کچھ

جلتے سینے میں ابھی سوختنی ہے کیا کچھ
اے دلِ خاک شدہ راکھ بچھی ہے کیا کچھ
کاغذی رابطے سب پھاڑ دیے پھینک دیے
بے دلی دیکھ ہوا لے کے چلی ہے کیا کچھ
مثلاً پائے حنا بستہ سے اُٹھتی ہوئی دھول
میری آنکھوں سے خزاں باندھ گئی ہے کیا کچھ
وہ بھی اُن سے جنھیں پژ مُردہ ہوئے عمر ہوئی
تو بھی اے بادِ صبا پوچھ رہی ہے کیا کچھ
عکس در عکس تسلسل کا سفر ہے جاری
آئینہ خانے کی صورت میں کمی ہے کیا کچھ
لیاقت علی عاصم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے