جلے ایسی شناسائی

جلے ایسی شناسائی
جو دے بدلے میں رسوائی
جسے اپنا کہا دل نے
وہ تھا غیروں کا شیدائی
لگا کر تہمتیں اُس نے
مری ہر بات جھٹلائی
میں پابندِ وفا لیکن
وہ عادت کا تھا ہرجائی
کبھی جینے نہیں دیتی
اذیت ناک تنہائی
وہ افسانوں کا پروردہ
تو میں سچ کی تمنائی
کبھی مطلب کے یاروں کو
نہیں ملتی پزیرائی
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے