جیسے راکھ دمک اٹھتی ہے ، جیسے غبار چمکتا ہے

جیسے راکھ دمک اٹھتی ہے ، جیسے غبار چمکتا ہے

دور کہیں اس تاریکی میں کوئی دیار چمکتا ہے

تم تک اس کی کرنیں شاید اب پہنچی ہوں لیکن دوست

یہ تارہ تو میرے دل مین آخری بار چمکتا ہے

ایک شکستہ بستی میں اب کوئی دیا موجود نہیں

لیکن ٹوٹے آئینوں کا اک انبار چمکتا ہے

دریا تک تو آ پہنچے ہیں آگے کیا ہے علم نہیں

پیاسے اونٹ بھڑکتے ہیں تشنہ رہوار چمکتا ہے

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے